nauhakid-001125

Teda Seena Nahi Labdaटेड़ा सीना नहीं लब्दाتیڈا سینہ نئیں لبھدا

0:00Ready--:--

تیرا سینہ نہیں ملتا بابا میں رُل گئی آں
یوں نوچے ہیں دُر میرے تجھے رونا بھول گئی آں

بابا مجھے شام کے لوگوں نے تیرے بعد کنیزی میں مانگا
میں غیرت سیّدوں کی اُس وقت ہی مر گئی آں

جب تیرے گلے پر ضرب چلی میں ساتھ کھڑی بس دیکھتی رہی
نہیں سر تِرا مجھکو دیا منتیاں کرتی رئی آں

جب تنہا قید کا حکم ہوا مجھے لے گئے تنگ زندانوں میں
میں روتی یوں رہ گئی میں قید میں مر گئی ہاں

دیا پہلا پرسہ مقتل میں مجھے شمر لعیں نے یتیمی کا
یوں ظلم کا ہاتھ اُٹھا ہو میں خاک پہ گر گئی آں

جب شام میں داخلہ ہونے لگا ہوئی بھیڑ بازاری لوگوں کی
پھپیوں کے چلنے کو میں مانگتی راہ رہی ہاں

تیرے خوں میں تر خط ظالم کے مجھے اجرِ رسالت دیتے رئے
یوں خُمُس ملا مجھکو ہو رنگین ہوئی زُلفاں

کبھی کوئی بیٹی نہ گزرے بے سر بابے کے لاشے سے
جِیِسے میں گزری بابا رسیوں میں جکڑی ہاں

تیرا سینہ نہیں ملتا بابا میں رل گئی آں
یوں نوچے ہیں در میرے تجھے رونا بھول گئی آں

بابا مجھے شام کے لوگوں نے تیرے بعد کنیزی میں مانگا
میں غیرت سیدوں کی اس وقت ہی مر گئی آں

جب تیرے گلے پر ضرب چلی میں ساتھ کھڑی بس دیکھتی رہی
نہیں سر ترا مجھکو دیا منتیاں کرتی رئی آں

جب تنہا قید کا حکم ہوا مجھے لے گئے تنگ زندانوں میں
میں روتی یوں رہ گئی میں قید میں مر گئی ہاں

دیا پہلا پرسہ مقتل میں مجھے شمر لعیں نے یتیمی کا
یوں ظلم کا ہاتھ اٹھا ہو میں خاک پہ گر گئی آں

جب شام میں داخلہ ہونے لگا ہوئی بھیڑ بازاری لوگوں کی
پھپیوں کے چلنے کو میں مانگتی راہ رہی ہاں

تیرے خوں میں تر خط ظالم کے مجھے اجرِ رسالت دیتے رئے
یوں خمس ملا مجھکو ہو رنگین ہوئی زلفاں

کبھی کوئی بیٹی نہ گزرے بے سر بابے کے لاشے سے
جیسے میں گزری بابا رسیوں میں جکڑی ہاں

تیرا سینہ نہیں ملتا بابا میں رل گئی آں
یوں نوچے ہیں در میرے تجھے رونا بھول گئی آں

بابا مجھے شام کے لوگوں نے تیرے بعد کنیزی میں مانگا
میں غیرت سیدوں کی اس وقت ہی مر گئی آں

جب تیرے گلے پر ضرب چلی میں ساتھ کھڑی بس دیکھتی رہی
نہیں سر ترا مجھکو دیا منتیاں کرتی رئی آں

جب تنہا قید کا حکم ہوا مجھے لے۔۔۔۔۔ گئے تنگ زندانوں میں
میں روتی یوں رہ گئی میں قید میں مر گئی ہاں

دیا پہلا پرسہ مقتل میں مجھے شمر لعیں نے یتیمی کا
یوں ظلم کا ہاتھ اٹھا ہو میں خاک پہ گر گئی آں

جب شام میں داخلہ ہونے لگا ہوئی بھیڑ بازاری لوگوں کی
پھپیوں کے چلنے کو میں مانگتی راہ رہی ہاں

تیرے خوں میں تر خط ظالم کے مجھے اجرِ رسالت دیتے رئے
یوں خمس ملا مجھکو ہو رنگین ہوئی زلفاں

کبھی کوئی بیٹی نہ گزرے بے سر بابے کے لاشے سے
جیسے میں گزری بابا رسیوں میں جکڑی ہاں